صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 153

غزل شمارهٔ 153

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: افید

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
بیهوده چه نشینید اگر مرد مصافید
خیزید همی گرد در دوست طوافید
22
از جانب خود هر دو جهان هیچ مجویید
جز جانب معشوق اگر صوفی صافید
33
چون مایه همی در پی یک سود بدادید
آنگاه کنم حکم که در صرف صرافید
44
تا بر نکنید جان و دل از غیر دلارام
دعوی مکنید صفوت و بیهوده ملافید
55
دارید سرای طایفه دستی بهم آرید
ورنه سرتان دادم خیزید معافید
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

میر خوبان را کنون منشور خوبی در رسید

مملکت بر وی سهی شد ملک بر وی آرمید

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 152

اگلی نظم

عاشق مشوید اگر توانید

تا در غم عاشقی نمانید

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 154

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00