صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 160

رباعی شمارهٔ 160

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: رنکند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا عشق قد تو همچو چنبر نکند

در راه قلندری ترا سر نکند

2

این عشق درست از آن کس آید به جهان

کورا همه آب بحرها تر نکند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

با یاد تو جام زهر چون نوش کشند

از کوی تو عاشقان بیهوش کشند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 159

اگلی نظم

عشق تو کرای شادی و غم نکند

عمر تو کرای سور و ماتم نکند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 161

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور