صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 289

رباعی شمارهٔ 289

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ابیم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

چون می دانی همه ز خاک و آبیم

امروز همه اسیر خورد و خوابیم

2

در تو نرسیم اگر بسی بشتابیم

سرمایه تویی سود ز خود کی یابیم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتم که مگر دل ز تو برداشته‌ایم

معلوم شد ای صنم که پنداشته‌ایم

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 288

اگلی نظم

یک چند در اسلام فرس تاخته‌ایم

یک چند به کفر و کافری ساخته‌ایم

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 290

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور