صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قصاید و قطعات
  4. »شمارهٔ 196

شمارهٔ 196

شاعر: سنایی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ردمی

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
1

گوگرد سرخ خواست ز من سبز من پریر

در پیشش ار نیافتمی روی زردمی

2

خود سهل بود سهل که گوگرد سرخ خواست

گر نان خواجه خواستی از من چه کردمی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

احوال خود چه عرض کنم هر زمان همی

بینم مضرت تن و نقصان جان همی

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 195

اگلی نظم

تابوت مرا باز کن ای خواجه زمانی

وز صورت ما بین ز رخ دوست نشانی

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 197 - در رثاء

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور