صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 107

غزل شمارهٔ 107

شاعر: سنایی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: انچهخواهیکرد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سوال کرد دل من که دوست با تو چه کرد؟

چرات بینم با اشک سرخ و با رخ زرد؟

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 106

اگلی نظم

ناز را رویی بباید همچو ورد

چون نداری گرد بدخویی مگرد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 108

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00