صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 99

غزل شمارهٔ 99

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اختهدارد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
با من بت من تیغ جفا آخته دارد
صبر از دل من جمله برون تاخته دارد
22
او را دلم آرامگه‌ست و عجبست این
کارامگه خویش برانداخته دارد
33
صد مشعله از عشق برافروخته دارم
تا صد علم از حسن برافراخته دارد
44
جانم ببرد تا ندبی نرد ببازم
زیرا که دلم در ندبی باخته دارد
55
صد سلسله دارد ز شبه ساخته بر سیم
آن سلسله گویی پی من ساخته دارد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنرا که خدا از قلم لطف نگارد

شاید که به خود زحمت مشاطه نیارد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 98

اگلی نظم

نور رخ تو قمر ندارد

شیرینی تو شکر ندارد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 100

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00