صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قصاید و قطعات
  4. »شمارهٔ 17

شمارهٔ 17

شاعر: سنایی

وزن: مفتعلن فاعلات مفتعلن فع (منسرح مثمن مطوی منحور)

قافیہ: امست

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
1

عرش مقاما زر کن کعبهٔ جاهت

دست وزارت در آن بلند مقامست

2

کز شرف او به روز بار نداند

شاه فلک اوج خویش را که کدامست

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

قدر مردم سفر پدید آرد

خانهٔ خویش مرد را بندست

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 16

اگلی نظم

آن تو کوری نه جهان تاریکست

آن تو کری نه سخن باریکست

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 18

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور