صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 38

رباعی شمارهٔ 38

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: لماست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

هر باطل را که رهگذر بر گل ماست

تو پنداری که منزلش در دل ماست

2

آنجا که نهاد قبلهٔ مقبل ماست

درد ازل و عشق ابد حاصل ماست

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

روز از طلبت پردهٔ بیکاری ماست

شبها ز غمت حجرهٔ بیداری ماست

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 37

اگلی نظم

هجرت به دلم چو آتشی در پیوست

آب چشمم قوت او را بشکست

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 39

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور