صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 163

رباعی شمارهٔ 163

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: منکند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

یک دم سر زلف خویش پر خم نکند

تا کار مرا چو زلف درهم نکند

2

خارم نهد و عشق مرا کم نکند

خاری که چنو گل سپر غم نکند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بسیار مگو دلا که سودی نکند

ور صبر کنی به تو نمودی نکند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 162

اگلی نظم

عشاق اگر دو کون پیش تو نهند

مفلس مانند و از خجالت نرهند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 164

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

عشق تو کرای شادی و غم نکند

عمر تو کرای سور و ماتم نکند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 161

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور