صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 115

غزل شمارهٔ 115

شاعر: سنایی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یزد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زهی چابک زهی شیرین بنامیزد بنامیزد

زهی خسرو زهی شیرین بنامیزد بنامیزد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 114

اگلی نظم

دگر گردی روا باشد دلم غمگین چرا باشد

جهان پر خوبرویانند آن کن کت روا باشد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 116

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چو ترک سرخوشم از خواب ناز برخیزد

هزار فتنه ز هر گوشه ای برانگیزد

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 278

اگر روم ز پِی‌اش فتنه‌ها برانگیزد

ور از طلب بنشینم به کینه برخیزد

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 155

چنین که غمزهٔ تو خون خلق می‌ریزد

عجب نباشد اگر رستخیز انگیزد

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 81

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00