صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 119

رباعی شمارهٔ 119

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یگردد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

آب از اثر عارض تو می گردد

آتش زد و رخسار تو پر خوی گردد

2

گر عاشق تو چو خاک لاشی گردد

چون باد به گرد زلف تو کی گردد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در دیدهٔ خصم نیک روی تو مباد

بر عاشق سفله نیک خوی تو مباد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 118

اگلی نظم

تن در غم تو در آب منزل دارد

دل آتش سودای تو در دل دارد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 120

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور