صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 4

رباعی شمارهٔ 4

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ارباتوباشدمارا

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

آنی که قرار با تو باشد ما را

مجلس چو بهار با تو باشد ما را

2

هر چند بسی به گرد سر برگردم

آخر سر و کار با تو باشد ما را

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشقا تو در آتشی نهادی ما را

درهای بلا همه گشادی ما را

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 3

اگلی نظم

ای کبک شکار نیست جز باز تو را

بر اوج فلک باشد پرواز تو را

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 5

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور