صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 147

غزل شمارهٔ 147

شاعر: سنایی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: امبود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش ما را در خراباتی شب معراج بود

آنکه مستغنی بد از ما هم به ما محتاج بود

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 146

اگلی نظم

هر که در بند خویشتن نبود

وثن خویش را شمن نبود

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 148

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

عشق بی درد ناتمام بود

کز نمک دیگ را طعام بود

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 322

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00