صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 403

رباعی شمارهٔ 403

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اشهایداشتمی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

گر دنیا را به خاشه‌ای داشتمی

همچون دگران قماشه‌ای داشتمی

2

لولی گویی مرا وگر لولیمی

کبکی و سگی و لاشه‌ای داشتمی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بیداد تو بر جان سنایی تا کی

وین باختن عشق ریایی تا کی

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 402

اگلی نظم

می خور که ظریفان جهان را دردی

برگرد بناگوش ز می بینی خوی

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 404

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور