صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 104

رباعی شمارهٔ 104

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وح

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

اندر همه عمر من بسی وقت صبوح

آمد بر من خیال آن راحت روح

2

پرسید ز من که چون شدی تو مجروح

گفتم ز وصال تو همین بود فتوح

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هستی تو سزای این و صد چندین رنج

تا با تو که گفت کین همه بر خود سنج

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 103

اگلی نظم

هر جاه ترا بلندی جوزا باد

درگاه ترا سیاست دریا باد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 105

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

از عشق شراب نیستی جوید روح

زین می شکند صراحی توبه نصوح

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 73

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور