صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 230

رباعی شمارهٔ 230

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: لخویش

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دی آمدنی به حیرت از منزل خویش

امروز قراری نه به کار دل خویش

2

فردا شدنی به چیزی از حاصل خویش

پس من چه دهم نشان ز آب و گل خویش

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر چند بود مردم دانا درویش

صد ره بود از توانگر نادان بیش

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 229

اگلی نظم

آراست بهار کوی و دروازهٔ خویش

افگند به باغ و راغ آوازهٔ خویش

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 231

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور