صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 347

غزل شمارهٔ 347

شاعر: صائب

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: انهارا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زبان برگ بود از ذکر خامش بوستان‌ها را

نسیم نوبهاران کرد گویا این زبان‌ها را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 346

اگلی نظم

که دارد این چنین سرگشته و بی تاب دریا را؟

که نعلی هست در آتش ز هر گرداب دریا را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 348

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

درین وادی چسان آرام باشد کاروان‌ها را

که همدوشی‌ست با ریگ روان سنگ نشان‌ها را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 55

شرر تمهید سازد مطلب ما داستان‌ها را

دهد پرواز بسمل مدعای ما بیان‌ها را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 56

زبان برگ بود از ذکر خامش بوستان‌ها را

نسیم نوبهاران کرد گویا این زبان‌ها را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 346

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00