صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 805

غزل شمارهٔ 805

شاعر: صائب

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ررزرا

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
از بدگهری می شکند گوهر رز را
در دل چه گره هاست ز زاهد بر رز را
22
حاشا که گذارد کرم ساقی کوثر
در گلشن فردوس ملامتگر رز را
33
یک دانه انگور به زاهد مچشانید
حیف است فکندن به وبال اختر رز را
44
ای شیشه می چند دهن بسته نشینی؟
با جام بکن عقد روان دختر رز را
55
صائب اگر از نشأه می چشم دهی آب
از آب گهر سبز نمایی سر رز را
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

اندیشه ز طوفان نبود دیده تر را

گیرد ز هوا کشتی من موج خطر را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 804

اگلی نظم

از زخم زبان نیست گزیر اهل رقم را

بی چاک که دیده است گریبان قلم را؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 806

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00