صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 187

غزل شمارهٔ 187

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اییمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: پری ساتکنی عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چشم مستش از نگاهی کرد سودایی مرا

کشتی از یک قطره می، گردید دریایی مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 186

اگلی نظم

می کشد در خاک و خون مژگان دلجویی مرا

تیغ زهرآلود باشد چین ابرویی مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 188

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نیست بی‌دیدار تو در دل شکیبایی مرا

نیست بی‌گفتار تو در دل توانایی مرا

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 16

چشم مستش از نگاهی کرد سودایی مرا

کشتی از یک قطره می، گردید دریایی مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 186

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00