صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 2279

غزل شمارهٔ 2279

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ابصبح

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

تا به کی همچون سگان گیرد ترا در خواب، صبح؟

چون گل از شبنم بزن بر چهره خود آب، صبح

2

شیر مست فیض شو از جوی شیر روشنش

تا نگشته است از شفق چون دامن قصاب صبح

3

در وصال از عاشق صادق نمی داند اثر

چون شکر در شیر، گردد محو در مهتاب صبح

4

گر نداری زنده شب را از گرانخوابی چو شمع

سبحه گردان شو ز اشک گرم در محراب صبح

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در جبین کس نمی بینیم انوار صلاح

ریش و دستاری بجا مانده است ز آثار صلاح

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2278

اگلی نظم

قرص خورشیدست اول لقمه مهمان صبح

چون توانم داد شرح نعمت الوان صبح؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2280

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور