صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 2296

غزل شمارهٔ 2296

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اغصبح

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

لبریز از می شفق کن ایاغ صبح

از خشکی دماغ محور بر دماغ صبح

2

عشقی که صادق است شام مطلبش

از خود شراب لعل برآرد ایاغ صبح

3

بی شست و شوی، نامه پاکان بود سفید

پرورده است در نمک خویش داغ صبح

4

در پرده جلوه های نهان هست فیض را

غافل مباش در دل شب از سراغ صبح

5

شمعی بس است ظلمت آیینه خانه را

رنگین شود ز یک گل خورشید باغ صبح

6

پا در رکاب برق بود حسن نوخطان

زنهار بر مدار نظر از چراغ صبح

7

صائب ز سینه انجمن افروز عالم

تا گرم شد چو مهر سرم از ایاغ صبح

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از بس مکدرست درین روزگار صبح

از دل نمی کشد نفس بی غبار صبح

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2295

اگلی نظم

از قرص آفتاب تهی نیست خوان صبح

دایم بود ز صدق طلب پخته نان صبح

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2297

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور