صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 56

شمارهٔ 56

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: ارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
آن را که تو دست پیش داری
کس تیغ بلا زدن نیارد
22
ما را که تو بی‌گنه بکشتی
کس نیست که دست پیش دارد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ملک ایمن درخت بارورست

زو قناعت به میوه باید کرد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 55

اگلی نظم

آدمی فضل بر دگر حیوان

به جوانمردی و ادب دارد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 57

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بیچاره کسی که می ندارد

غوره به سلف همی‌فشارد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 699

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00