صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 45

رباعی شمارهٔ 45

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: سان

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
با زنده‌دلان نشین و صادق نفسان
حق دشمن خود مکن به تعلیم کسان
22
خواهی که بر از ملک سلیمان بخوری
آزار به اندرون موری مرسان
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

امروز که دستگاه داری و توان

بیخی که بر سعادت آرد بنشان

سعدی»مواعظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 44

اگلی نظم

روزی دو سه شد که بنده ننواخته‌ای

اندیشه به ذکر وی نپرداخته‌ای

سعدی»مواعظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 46

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آمد شب و غم‌های تو همچون عسسان

یابند دلم را به سوی کوی کسان

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1379

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00