صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 111

شمارهٔ 111

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ینخواهدبود

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

هر که بر روی زمین مهلت عیشی دارد

ای بسا روز که در زیر زمین خواهد بود

2

کشتی آرام نگیرد که بود بر سر آب

تا جهان بر سر آبست چنین خواهد بود

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هزار سال به امید تو توانم بود

اگر مراد برآید هنوز باشد زود

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 110

اگلی نظم

اگر ملازم خاک در کسی باشی

چو آستانه ندیم خسیت باید بود

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 112

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور