صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 34

غزل شمارهٔ 34

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ره به خرابات برد، عابد پرهیزگار

سفرهٔ یکروزه کرد، نقد همه روزگار

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 33

اگلی نظم

هر که با یار آشنا شد گو ز خود بیگانه باش

تکیه بر هستی مکن در نیستی مردانه باش

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 35

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شد آن که پای مرا بوسه می زند او باش

بیار باده که گشتم قلندر و قلاش

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1188

به آب ماند یار مرا صفات و صفاش

که روی خویش ببینی چو بنگری بقفاش

سنایی»دیوان اشعار»قصاید»قصیدهٔ شمارهٔ 92 - در ستایش قاضی ابوالبرکات‌بن مبارک فتحی

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00