صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 14

رباعی شمارهٔ 14

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ردیخیزد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
از می طرب افزاید و مردی خیزد
وز طبع گیا خشکی و سردی خیزد
22
در بادهٔ سرخ پیچ و در روی سپید
کز خوردن سبزه، روی زردی خیزد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ظلم از دل و دست ملک نیرو ببرد

عادل ز زمانه نام نیکو ببرد

سعدی»مواعظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 13

اگلی نظم

نادان همه جا با همه کس آمیزد

چون غرقه به هر چه دید دست آویزد

سعدی»مواعظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 15

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

از می طرب افزاید و مردی خیزد

وز طبع گیا خشکی و سردی خیزد

سعدی»خبیثات و مجالس الهزل»خبیثات»شمارهٔ 15

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00