صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 180

غزل شمارهٔ 180

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: انکرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کیست آن ماه منور که چنین می‌گذرد

تشنه جان می‌دهد و ماء معین می‌گذرد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 179

اگلی نظم

باد آمد و بوی عنبر آورد

بادام شکوفه بر سر آورد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 181

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

در کوی خرابات مرا عشق کشان کرد

آن دلبر عیار مرا دید نشان کرد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 643

رخسار ترا خط نتوانست نهان کرد

بی پرده تر این آینه را آینه دان کرد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4370

زلف تو مرا بند دل و غارت جان کرد

عشق تو مرا رانده به گرد دو جهان کرد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 206

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00