صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 165

غزل شمارهٔ 165

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دیدار یار غایب دانی چه ذوق دارد

ابری که در بیابان بر تشنه‌ای ببارد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 164

اگلی نظم

هر که چیزی دوست دارد جان و دل بر وی گمارد

هر که محرابش تو باشی سر ز خلوت برنیارد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 166

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

کسی که عیب ترا پیش چشم بنگارد

ببوس دیده او را که بر تو حق دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3709

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00