صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 364

غزل شمارهٔ 364

شاعر: سعدی

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: ابم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

روزگاری‌ست که سودازدهٔ روی توام

خوابگه نیست مگر خاک سر کوی توام

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 363

اگلی نظم

به خاک پای عزیزت که عهد نشکستم

ز من بریدی و با هیچ کس نپیوستم

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 365

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ندارد آنقدر قطع از جهان غفلت اسبابم

به جنبش تا رسد مژگان محرف می‌خورد خوابم

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2007

حدیث تلخ ناصح کرد بیخود چون می نابم

زبان مار شد از مستی غفلت رگ خوابم

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 5481

ز کوشش حاصلی غیر از غبار دل نمی یابم

به از افتادگی این راه را منزل نمی یابم

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 5482

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00