صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 102

رباعی شمارهٔ 102

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ولم

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
آن رفته که بود دل بدو مشغولم
وافکنده به شمشیر جفا مقتولم
22
بازآمد و آن رونق پارینش نیست
خط خویشتن آورد که من معزولم
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن دوست که دیدنش بیاراید چشم

بی‌دیدنش از گریه نیاساید چشم

سعدی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 101

اگلی نظم

میندیش که سست عهد و بدپیمانم

وز دوستیت فرار گیرد جانم

سعدی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 103

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00