صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 128

غزل شمارهٔ 128

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: نگینیست

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل نمانده‌ست که گوی خم چوگان تو نیست

خصم را پای گریز از سر میدان تو نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 127

اگلی نظم

خسرو آنست که در صحبت او شیرینی‌ست

در بهشت است که هم‌خوابه حورالعینی‌ست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 129

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00