صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 437

رباعی شمارهٔ 437

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: بست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
هرچند فراق پشت امید شکست
هرچند جفا دو دست آمال ببست
22
نومید نمی‌شود دل عاشق مست
مردم برسد به هر چه همت دربست
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر چند شکر لذّت جان و جگر است

آن خود دگر است و شکرِ او دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 436

اگلی نظم

هرچند که بار آن شترها شکر است

آن اشتر مست چشم او خود دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 438

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00