صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 150

رباعی شمارهٔ 150

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: داخت

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
از بسکه دل تو دام حیلت افراخت
خود را و ترا ز چشم رحمت انداخت
22
مانندهٔ فرعون خدا را نشناخت
چون برق گرفت عالمی را بگداخت
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آواز تو ارمغانِ نفخ صور است

زان قوتِ هر دلی که بس رنجور است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 149

اگلی نظم

از بی‌یاری ظریفتر یاری نیست

وز بی‌کاری لطیفتر کاری نیست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 151

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00