صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1825

رباعی شمارهٔ 1825

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: لی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

جان در ره ما بباز اگر مرد دلی

ورنی سر خویش گیر کز ما بحلی

2

این ملک کسی نیافت از تنگ دلی

حق می‌طلبی و مانده در آب و گلی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

جان بگریزد اگر ز جان بگریزی

وز دل بگریزم ار از آن بگریزی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1824

اگلی نظم

جان دید ز جانان ازل دمسازی

می‌خواهد کز من ببرد هنبازی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1826

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور