صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 287

غزل شمارهٔ 287

شاعر: رومی

قافیہ: ودها

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

ورد البشیر مبشرا ببشاره

احیی الفؤاد عشیه بورودها

2

فکان ارضا نورت بربیعها

فکان شمسا اشرقت بخدودها

3

یا طاعنی فی صبوتی و تهتکی

انظر الی نار الهوی و وقودها

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یا من بنا قصر الکمال مشیدا

لا زال سعدا بالسعود مؤیدا

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 286

اگلی نظم

یا کالمینا یا حاکمینا

یا مالکینا لا تَظلَمونا

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 288

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور