صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 383

رباعی شمارهٔ 383

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ارشدهاست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
گفتا که بیا سماع در کار شده‌است
گفتم که برو که بنده بیمار شده‌است
22
گوشم بکشید و گفت از اینها بازآی
کان فتنه هردو کون بیدار شده‌است
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتار تو زر و نعلت ار زرین است

یک حبه به نزد کس نَیَرزی اینست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 382

اگلی نظم

گفتا که شکست توبه بازآمد مست

چون دید مرا مست بهم برزد دست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 384

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00