صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 209

رباعی شمارهٔ 209

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: تشپیدانیست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
این عشق شهست و رایتش پیدا نیست
قرآن حقست و آیتش پیدا نیست
22
هر عاشق از این صیاد تیری خورده است
خون میرود و جراحتش پیدا نیست
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

این شکل سفالین تنم جام دلست

و اندیشهٔ پخته‌ام می خام دلست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 208

اگلی نظم

این غمزه که می‌زنی ز نوری دگر است

و اندیشه که می‌کنی عبوری دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 210

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00