صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 344

رباعی شمارهٔ 344

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: امشعشقاست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
زان می مستم که نقش جامش عشق است
وان اسب سواری که لجامش عشق است
22
عشقِ مهِ من کارِ عظیمی است و لیک
من بندهٔ آنم که غلامش عشق است
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زان مِی خوردم که روح پیمانهٔ اوست

زان مست شدم که عقل دیوانهٔ اوست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 343

اگلی نظم

سرسبز بود خاک که آبش یار است

خاصّه خاکی که ناطق و بیدار است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 345

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00