صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 435

رباعی شمارهٔ 435

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: شاست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
هر چند به حلم یار ما جورکش است
لیکن زاری عاشقان نیز خوش است
22
جان عاشق چو گلستان می‌خندد
تن می‌لرزد چو برگ گوئی تبش است
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر جان که از او دلبر ما شادانست

پیوسته سرش سبز و دلش خندانست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 434

اگلی نظم

هر چند شکر لذّت جان و جگر است

آن خود دگر است و شکرِ او دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 436

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00