صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1827

غزل شمارهٔ 1827

شاعر: رومی

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: انمکن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر کِی ز حور پرسدت، رخ بنما که «هم‌چنین»

هر کِی ز ماه گویدت، بام برآ که «هم‌چنین»

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1826

اگلی نظم

باز نگار می کشد چون شتران مهار من

یارکشی است کار او بارکشی است کار من

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1828

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دوش چه خورده‌ای دلا راست بگو نهان مکن

همچو کسان بی‌گنه روی به آسمان مکن

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1843

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00