صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 193

رباعی شمارهٔ 193

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستتراست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
ای ساقی اگر سعادتی هست تراست
جانی و دلی و جان و دل مست تراست
22
اندر سر ما عشق تو پا می‌کوبد
دستی می‌زن که تا ابد دست تراست
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای ذکر تو مانع تماشای تو دوست

برق رخ تو نقاب سیمای تو دوست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 192

اگلی نظم

ای ساقی جان مطرب ما را چه شده است

چون می‌نزند رهی ره او که زده است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 194

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00