صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1875

رباعی شمارهٔ 1875

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اییشتوی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دل کیست همه کار و کیاییش توی

نیک و بد و کفر و پارساییش توی

2

گر کژ نگرد دیدهٔ من، من چه کنم

از خود گله کن که روشناییش توی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل گفت مرا بگو کرا می‌جوئی

بر گرد جهان خیره چرا می‌پوئی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1874

اگلی نظم

دوش آمد آن خیال تو رهگذری

گفتم بر ما باش ز صاحب نظری

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1876

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور