صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1939

رباعی شمارهٔ 1939

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اندرپستی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

گفتم که کدامست طریق هستی

دل گفت طریق هستی اندر پستی

2

پس گفتم دل چرا ز پستی برمد

گفتا زانرو که در درین دربستی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتم که دلا تو در بلا افتادی

گفتا که خوشم تو به کجا افتادی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1938

اگلی نظم

گفتند که هست یار را شور وشری

گفتم که دوم بار بگو خوش خبری

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1940

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور