صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 125

رباعی شمارهٔ 125

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: فتهاست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
آن چشم که خون گشت غم او را جفت است
زو خواب طمع مدار کو کی خفته است
22
پندارد کاین نیز نهایت دارد
ای بیخبر از عشق که این را گفته است
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن چشم فراز از پی تاب شده است

تا ظن نبری که فتنه در خواب شده است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 124

اگلی نظم

آن چیست کز او سماعها را شرف است

وان چیست که چون رود محل تلف است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 126

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00