صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 110

رباعی شمارهٔ 110

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ادامشب

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
هستم به وصال دوست دلشاد امشب
وز غصهٔ هجر گشته آزاد امشب
22
با یار بچرخم و به دل میگویم
یارب که کلید صبح گم باد امشب
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مستند مجردان اسرار امشب

در پرده نشسته‌اند با یار امشب

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 109

اگلی نظم

یارب یارب به حق تسبیح رباب

کش در تسبیحِ صد سوالست و جواب

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 111

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00