صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 379

رباعی شمارهٔ 379

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستتنگرفت

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
گر حلقهٔ آن زلف چو شستت نگرفت
تا باده از آن دو چشم مستت نگرفت
22
می طعنه زنند دشمنانم شب و روز
کز پای درآمدی و دستت نگرفت
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گرمای تموز از دل پردرد شماست

سرمای زمستان تبش سرد شماست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 378

اگلی نظم

کس دل ندهد بدو که خونخوار منست

جان رفت چه جای کفش و دستار منست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 380

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00