صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 764

رباعی شمارهٔ 764

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستیدارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

عشق تو بهر صومعه مستی دارد

بازار بتان از تو شکستی دارد

2

دست غم تو بهر دو عالم برسید

الحق که غمت درازدستی دارد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق از ازلست و تا ابد خواهد بود

جویندهٔ عشق بیعدد خواهد بود

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 763

اگلی نظم

عشق تو خوشی چو قصد خونریز کند

جان از قفس قالب من خیز کند

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 765

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

زلفِ تو سرِ درازدستی دارد

چشمِ تو همه میل به مستی دارد

عطار»مختارنامه»باب سی و هشتم: در صفت لب و دهان معشوق»شمارهٔ 4

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور