صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1849

رباعی شمارهٔ 1849

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ادباشدصوفی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

خوش باش که خوش نهاد باشد صوفی

از باطن خویش شاد باشد صوفی

2

صوفی صاف است غم بر او ننشیند

کیخسرو و کیقباد باشد صوفی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خود هیچ بسوی ما نگاهی نکنی

گیرم که گناهست گناهی نکنی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1848

اگلی نظم

خوش می‌سازی مرا و خوش می‌سوزی

خوش پرده همی دری و خوش می‌دوزی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1850

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور