صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1007

غزل شمارهٔ 1007

شاعر: رومی

وزن: مفتعلن مفتعلن فاعلن (سریع مطوی مکشوف)

قافیہ: رد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق مرا بر همگان برگزید

آمد و مستانه رخم را گزید

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1006

اگلی نظم

یا من نعماه غیر معدود

و السعی لدیه غیر مردود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1008

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مُرد مرادی، نه همانا که مُرد

مرگ چنان خواجه نه کاری‌ست خُرد

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 32 - در رثای ابوالحسن مرادی

گفت کسی خواجه سنایی بمرد

مرگ چنین خواجه نه کاریست خرد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 996

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00