صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 804

رباعی شمارهٔ 804

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: قباشد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

کی غم خورد آنکه شاد مطلق باشد

وان دل که برون ز چرخ ازرق باشد

2

تخم غم را کجا پذیرد چو زمین

آن کز هوسش فلک معلق باشد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کی غم خورد آنکه با تو خرم باشد

ور نور تو آفتاب عالم باشد

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 803

اگلی نظم

کی گفت که آن زندهٔ جاوید بمرد

کی گفت که آفتاب امید بمرد

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 805

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور